صدر نشین(چیئرمین)

اکادمی کے موجودہ صدر نشین ،ڈاکٹر محمد قاسم بگھیوایک نامور ماہرِ تعلیم، سماجی سائنس دان اور بین الاقوامی شہرت کے حامل محقق ہیں،جنھوں نے اپنی ساری زندگی ، زبان، ادب، لسانیات، معاشرتی لسانیات، تعلیم ، مطالعہ پاکستان اور سماجی ثقافتی علمِ بشریات کے میدان میں خدمات سرانجام دیتے ہوئے گزاری۔اس سے قبل بھی وہ سرکاری سطح پرمختلف حیثیتوں میں کام کرتے رہے ، جن میں پرو وائس چانسلر، ڈین آف فیکلٹی، ڈائریکٹرپروفیسرایم کےبی چیئرجیسے اہم عہدے شامل ہیں۔ اسی دوران میں وہ یکم اگست۲۰۰۱ء سے ۱۶فروری۲۰۰۵ء تک ڈیپوٹیشن(مستعار الخدمت)  پر سندھی لینگوئج اتھارٹی (مقتدرہ سندھی زبان)کےچیئرمین(  صدرنشین) کے طور پر بھی کام کرتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر بگھیو عمر بھر پاکستان کی آزاد اور جمہوری ثقافت کی ہمت افزائی کرتے رہے ہیں اور مختلف ذرائع بروئے کار لا کر عالمی امن، مساوات ،اخوت اور تحمل و برداشت کے لیے راہ ہموار کرتے رہے ہیں۔آپ تاریخ، ادب ،عمرانیات اور ثقافت کے حوالے سے انتہائی وسیع المطالعہ شخصیت ہیں اور ایک سماجی دانشور اور ماہر لسانیات کے طور پر مشہور و معروف ہیں۔

ڈاکٹر بگھیونے گورنمنٹ کالج لاڑکانہ سے بی اے اور سندھ یونیورسٹی سے ایم۔ اے سندھی(۱۹۷۶ء )۔ ایل ایل بی (۱۹۷۸ء)ا ور ایم اے صحافت(۱۹۸۰ء) میں پاس کیا۔ پھر آپ نے علم زبان اور علم الکلام میں پی ایچ ڈی کی ڈگری یونیورسٹی آف ایسکس(Essex) برطانیہ اور پوسٹ ڈاکٹر یٹ کی ڈگری ۲۰۰۵میں یونیورسٹی آف لندن سے حاصل کی۔پروفیسر بگھیو کی خصوصی دلچسپی کا میدان سماجی لسانیات ہے۔اس سلسلےمیں انھوں نے اردو اور سندھی کے باہمی روابط، طرز کلام اور لسانی تبدیلیوںپر جو کام کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔

وہ اس بات کے قائل ہیں کہ کثیرلسانی معاشروں میں زبان ،تعلیم اور معاشرے کے حوالہ سے بہت سے انسانی مسائل کے حل میں ،انسانی ادراک کی ترقی کے لیے مددگار ہوتی ہے ۔ ڈاکٹر بگھیو ملک کے کئی اہم اداروں کے ساتھ بطوراساسی رکن ، سکالر ، ماہراور ممبر مجلس نظماوابستہ رہے ہیں۔جن میں ایچ ای سی (ہائی ایجوکیشن کمیشن)، سندھی ادبی بورڈ، سندھی لینگوئج اتھارٹی(مقتدرہ سندھی زبان)، انسٹی ٹیوٹ آف سندھالوجی، سندھ پبلک سروس کمیشن، یونیورسٹی آف کراچی، اورقائداعظم یونیورسٹی ، اسلام آباد جیسے ادارے خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان میں ثقافت ، زبان، لسان، ادب، لسانی منصوبہ بندی اور تعلیم کے موضوعات پر کام کرنے والے تحقیقی سکالرز کی سرپرستی اور نگرانی بھی کرتے رہے ہیں۔

آپ لسانیات ، ادب ، لسانی موشگافیوں، معاشرے میں بولی جانے والی زبانوں میں فرق اور دیگر متعلقہ شعبوں میں پی ایچ ڈی اورایم۔ فل کے لیے منظور شدہ نگران ہیں۔ انھوں نے بہت سے تحقیقی منصوبوں کی نگرانی کی اور انہیں مکمل کرایا۔ وہ بہت سے مصنفین کے تحریری کام کو منظر عام پر لائے جن میں:

1۔پاکستان کی لسانیات پر پالیسی کی تشکیل (۲۰۱۲ء)

۲۔ اردو سندھی لغت(۲۰۰۴ء)                     ۳۔ سندھی انگریزی لغت      ۴۔ عمرانیات کی لغت (۲۰۰۴ء)

۵۔سندھی ادبی تاریخ (۳جلدیں ۲۰۰۴ء)          ۶۔ سندھی زبان اور ادب کی تاریخ (۲۰۰۴ء)

۷۔ لوک داستانوں پر ڈاکٹر بلوچ اور ڈاکٹر سندیلو کے کام کا تقابلی مطالعہ (۲۰۰۴ء)۔

ڈاکٹر بگھیو نے تحقیق و تالیف کے حوالے سے بھی قابل قدر کام کیا ہے، ان کی اب تک چار تحقیقی کتب منظر عام پر آچکی ہیں۔جو درج ذیل ہیں :

۱۔ شخص و عکس (Shakhsaain Aksa 2012) سندھیکا اکیڈمی کراچی۔

۲۔ دیہی اور شہری سندھی سماجی زبانوں کا تقابلی مطالعہ ( ۲۰۰۱ء) لینکوم یَورَو پا جرمنی (Lincom Europa)

۳۔ سندھی زبان:لسانیات سے سماجی لسانیات تک ، سندھیکا اکیڈمی کراچی ۱۹۹۸ء ۔

۴۔ مرزاقلیچ بیگ کی سوانح عمری (۱۹۸۴ء ) انسٹی ٹیوٹ آف سند ھالوجی برائے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن۔

پچیس سے زائدکتب و جرائدکی تدوین، تالیف اور نظر ثانی کے علاوہ آپ اندرون ِملک اور بیرونِ ملک پچاس سے زیادہ قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کر کے اپنے مقالات پیش کر چکے ہیں۔ ان کی اپنی نگرانی میں بھی مختلف مقامات پر کئی قومی اور بین الاقوامی کانفرنسیں منعقد ہو چکی ہیں۔

ڈاکٹر صاحب کی زیر نگرانی ، سات سکالرززبان اور ادب کے مختلف موضوعات پر  پی ایچ ڈی جب کہ ایک سکالراپناایم فِل مکمل کر چکا ہے۔

ادب لسانیات اورتعلیم کے شعبوں میں ڈاکٹر صاحب کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انھیں حکومت پاکستان کی طرف سےصدارتی تمغہ ٔ امتیاز سمیت کئی ملکی اور غیر ملکی انعامات و اعزازات سے نوازا جا چکا ہے ۔

علاوہ ازیں یونیورسٹی آف زاروگوذا، سپین۲۰۰۵ءمیں جوزف اینجل گریشیا لانڈا کی مرتب کردہ ببلوگرافی آف لٹریری تھیوری ، کریٹی سیزم اینڈ فلالوجی کے دسویں ایڈیشن میں آپ کا نام شامل ہے۔ اسی طرح۲۰۰۲ءسے آپ کا نام عالمی ماہرینِ لسانیات (World Linguists list) کی فہرست میں بھی شامل کر لیا گیا۔ ملک کے اند ر اور بیرونِ ملک نامور مصنفین اور انسائیکلو پیڈیاز میں آپ کے تحریری کاموں کو نہ صرف تسلیم کیا گیا ہے بلکہ حوالے کے طور پربھی پیش کیا جاتا رہا ہے۔

Comments are closed