نئی مطبوعات

سہ ماہی’’ادبیات‘‘ کا انتظار حسین نمبر

ادبیات‘‘ کا ضخیم انتظار حسین نمبر ان کے اسلوبِ فن پر ایک جامع کتاب کی حیثیت سے سراہا جائے گا۔عرفان صدیقی
انتظار حسین نمبر انتظارشناسی میں بنیادی ماخذ کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ڈاکٹر قاسم بگھیو

وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ وادبی ورثہعرفان صدیقی نے سہ ماہی ادبیات کے خصوصی شمارہ ’’انتظار حسین نمبر‘‘ کے لیے اپنے پیغام میں کہا کہ انتظار حسین ایک ہمہ جہت صاحب قلم تھے جنہوں نے اخباری کالموں ، بچوں کی کہانیوں، تراجم، تذکروں، تنقید، سفرناموں اور صحافتی تحریروں میں طبع آزمائی کی۔ یہ پیغام انہوں نے سہ ماہی’’ادبیات‘‘ کے انتظار حسین نمبر(شمارہ نمبر111-12،جنوری تا جون2017) کی اشاعت پر کہی۔عرفان صدیقی نے کہا کہ انتظار حسین ایک ہمہ جہت صاحب قلم تھے جنہوں نے اخباری کالموں ، بچوں کی کہانیوں، تراجم، تذکروں، تنقید، سفرناموں اور صحافتی تحریروں میں طبع آزمائی کی۔ اس بسیارنویسی کے باوجود وہ جس شعبے میں گئے اپنی چھاپ چھوڑ آئے اس سے انتظار حسین کی فکری شادابی و زرخیزی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے لیکن افسانہ اُ ن کی اصل جولاں گاہ ٹھہرا اور انہوں نے اس صنفِ ادب کو اس قدر مالا مال کردیا کہ اُن کا نام اَمر ہوگیا۔ اُن کے ناول، ان کے افسانوں ہی کی طرح مقبول ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اکادمی ادبیات پاکستان کے تحت منعقد ہ تعزیتی تقریب میں ایک جملہ کہا تھا ’’ایک اور انتظار حسین کے لیے ہمیں صدیوں انتظار کرنا ہوگا‘‘۔ میں آج یہ جملہ زیادہ پختہ یقین سے دہرارہا ہوں ۔میں اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو اور اُن کے رفقاء کو اس بیش قیمت کاوش پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ ’’ادبیات‘‘ کا یہ ضخیم انتظار حسین نمبر کے اسلوبِ فن پر ایک جامع کتاب کی حیثیت سے سراہا جائے گا۔ سہ ماہی ادبیات کے خصوصی شمارہ ’’انتظار حسین نمبر‘‘ کے موقع پر اکادمی ادبیات کے چیئرمین ڈاکٹر قاسم بگھیو نے کہا کہ اردو ادب میں ایسے کتنے لوگ ہوں گے جنھوں نے بہ یک وقت؛ناول، افسانے ،مضامین، تنقیدی مضامین،تراجم اور ادبی کالم کو نہ صرف اپنے تخلیقی اظہار کا ذریعہ بنایا بل کہ ہر صنف میں اتنے گہرے نقوش چھوڑے، ایسے لوگوں کو کثیر الجہات کہا جاتا ہے جو نظم اور نثر کی مختلف اصناف میں ایک ساتھ طبع آزمائی کریں اور ہر صنف میں اپنے نقوش چھوڑیں،جب تک اردو زبان زندہ ہے ،ان کے مدھم ہونے کا کوئی امکان نہیں ۔تخلیق کار عموماًاپنا اسلوب اپنے سے پیشتر ادبی سرمائے سے اخذ کرتے ہیں لیکن انتظار حسین نے اپنا افسانوی اسلوب اپنے سے پیشتر ادبی سرمائے کے بجائے قدیم اساطیری ادب اورالہامی کتابوں کے اسلوب سے وضح کیا،یہی وجہ ہے کہ وہ نہ صرف اپنے اسلوب کے موجد ہیں بل کہ اس کے مختتم بھی خود ہیں۔ ان کا یہ اسلوب ان کے افسانوںاور ناولوں تک ہی محدود نہیں بل کہ اس کی ایک زیریں لہر ان کے مضامین ، تراجم اور ادبی کالموںمیں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔انھوں نے بہت طویل عمر پائی اور زندگی کے آخری دنوں تک تخلیقی طور پر فعال رہے۔ان کا ناول بستی انگریزی میں ترجمہ ہوا اور بُوکر پرائز کے لیے شارٹ لسٹ ہوا۔یہ اردو کا پہلا ناول تھا، جس کے حصے میں یہ اعزاز آیااور اردو کا نام عالمی سطح پر جانا گیا۔انتظار حسین کا اکادمی ادبیات کے ساتھ بھی ایک دیرینہ تعلق رہا ہے ۔وہ مختلف اوقات میں اکادمی کی مجلس حاکمہ کے رکن کی حیثیت سے بھی اہل ادب کی رہنمائی کرتے رہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ملک کا سب سے بڑا ادبی اعزاز کمال فن بھی انہیں تفویض کیا گیا۔اس کے علاوہ انھیں بے شمار ملکی و غیر ملکی ادبی اعزازات سے بھی نوازا گیا،جن میں فرانس کا سب سے بڑا ادبی اعزاز بھی شامل ہے ۔ان کا اصل اعزاز ان کی وہ تخلیقات ہیں ، جو آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ادبیات کے خصوصی شمارے میں انتظار حسین کی شخصیت اور فن کی مختلف جہات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ادبیوں ، نقادوں اور محققوں سے خصوصی طور پرحاصل کردہ مضامین اور مقالات شامل کیے گئے ہیں ۔ شعرا کی طرف سے منظوم خراجِ عقید ت بھی اس شمارے کا حصہ ہے۔شمارے میں انتظار حسین کی تحریروں سے انتخاب کے ساتھ ساتھ ان کے کچھ خصوصی انٹرویو ز بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ادبیات کے مدیر اختر رضا سلیمی اور ادبیات کی مجلس مشاورت کے اراکین میںڈاکٹر توصیف تبسم، ڈاکٹر اقبال آفاقی ، محمد حمید شاہد اورڈاکٹر وحید احمدشامل ہیں۔ ادبیات کا یہ خصوصی شمارہ انتظارشناسی میں بنیادی ماخذ کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور مستقبل میں انتظار حسین پر کام کرنے والوںکے لیے بنیادی مواد کے طور پر کام آئے گا۔ ادبیات کے اس خصوصی شمارے میں انتظار حسین :شخصیت اور فن پر مضمون، اہل قلم سے ان کی یادیں، انتظار حسین پر بطورناول نگار،بطور افسانہ نگاراور بطور تنقیدنگار تنقیدی مضامین، مکالماتِ انتظار حسین کے تحت ان سے کیے گئے انٹرویو، ان پر لکھے گئے خطوط، انتخاب ِ انتظار حسین کے تحت ان کے افسانے ۔شمارے میں انتظار حسین کی آخری تحریر بھی شامل ہے۔ شمارے میں انتظار حسین کے انگریزی کالم بھی شامل اشاعت ہیں۔ یہ شمارہ728صفحات پر مشتمل ہے،اس کی قیمت 300روپے (غیر مجلد)ہے۔ شمارہ مارکیٹ ، اکادمی کی بُک شاپ اور اکادمی کے ریجنل دفاتر پر دستیاب ہے۔

سہ ماہی ادبیات کے خصوصی شمارہ انتظار حسین کےفہرست مضامین، مقالات

.

خریداری کے لیے رابطہ نمبر

Comments are closed