تقریب ’’اہل قلم سے ملیے‘‘کے تحت پروفیسر یوسف حسن کے ساتھ ملاقات

شاعری میں فنی و جمالیاتی پہلوئوں کو بہر صورت فوقیت دینی چاہییان خیالات کا اظہارممتا زشاعر اور نقاد پروفیسر یوسف حسن نے  اکادمی ادبیات پاکستان کے رائٹرز کیفے کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب ’’اہل قلم سے ملیے‘‘  میں کہی۔ادیبوں اوردانشوروں نے ان کی فنی زندگی اور شخصیت کے حوالے سے گفتگو کی۔پروفیسریوسف حسن نے کہا کہ فکری و فنی تربیت اپنے آبائی قصبے کالا گوجر جہلم میں میاںمحمد بخش کی عارفانہ شاعری اور درشن سنگھ آوارہ کی باغیانہ شاعری کی فضا میں ہوئی۔ ممتاز ترقی پسند شاعر اقبال کوثر باقاعدہ استاد تھے اور پھر لاہور میں نامور ترقی پسند ادیب احمد ندیم قاسم کی سرپرستی میں ادبی تربیت ہوئی۔ حلیفوں اور حریفوں سب میں میری ایک ہی شناخت بطور ترقی پسند شاعر و نقاد ہے۔ ترقی پسند تحریکوں خصوصا محنت کشن عوام کی رفاقت نے بھی میری ترقی پسندانہ فکری اور تخلیقی شخصیت کی نشوونما نے نہایت اہم کردار ادا کیا۔ اپنے سینئر ترقی پسندوں اور عالمی ترقی پسند مفکروں سے یہی سیکھا ہے کہ اپنی شاعری میں فنی و جمالیاتی پہلوئوں کو بہر صورت فوقیت دینی چاہیے اور ادبی تنقیدکوصرف سماجی مواد کے جائزے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے لیے لازم ہے کہ ادب پاروں کے فنی اور جمالیاتی اوصاف کا بھی جائزہ لیا جائے۔ اعلیٰ ترین ترقی پسند نصب العین فرد کی ہمہ جہت اور آزادانہ نشوونما ہے جس میں فنی و جمالیاتی مظاہر کی تخلیق اور تخصیص دونوں کامل فرد کی خرد کی تشکیل کے لیے لازم ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو ، چیئرمین ، اکادمی ادبیات پاکستان نے کہا کہ پروفیسر یوسف حسن ایک ترقی پسند شاعر، نقاداور کمٹمنٹ کے آدمی ہیں۔ ان کی ترقی پسندی ان کے اندر کی آواز ہے۔ یوسف حسن کی نظم و نثر میں اس کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ ترقی پسندی سے ان کی کمٹمنٹ آج تک موجود ہے۔وہ ایک درویش صفت انسان ہیں ، انہوں نے اب تک اپنی کتابوں کی طرف توجہ نہیں دی۔ رائٹرز کیفے کے زیر اہتمام اکادمی ادبیات پاکستان کا پروگرام ’’ میٹ اے رائٹر اوور اے کپ آف ٹی ‘‘ کے تحت پروفیسر یوسف حسن کے ساتھ یہ تقریب اس سلسلہ کی بائیسویں تقریب ہے اور اکادمی آئندہ بھی ادبیوں اوردانشوروں کے ساتھ اس کی طر ح کی ملاقات کا اہتمام کرتی رہے گی۔کشور ناہید، ڈاکٹر اقبال آفاقی،علی اکبر عباس،محمد حمید شاہد، اشفاق سلیم مرزا،گلزار حسنین، فرحت عباس،صلاح الدین درویش،حمزہ حسن شیخ،منظر نقوی،راحت سرحدی،اقبال افکار،امداد آکاش،اخترعثمان،جنید آذر،شائستہ چوہدری، افشاں عباسی، حسن عباس رضا  اور دیگر اہل قلم اور دیگرنے پروفیسر یوسف حسن کے فن و شخصیت اوران کی ادبی خدمات کے حوالے سے سوالات کیے۔

Comments are closed