اکادمی ادبیات کی احمد فراز لائبریری میں پرتو روہیلہ کارنر قائم

اکادمی ادبیات پاکستان کی احمد فراز لائبریری میں ادیبوں کے نام سے کارنرز قائم کیے جائیں گے۔ اس سلسلے میںپہلا پرتو روہیلہ بُک کارنر بنایا گیا ہے ۔ یہ بات ڈاکٹر محمدقاسم بگھیو، چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان نے اکادمی کی لائبریری میں کتاب کے مطالعے کو فروغ دینے اور اہل قلم کو اس سلسلے میں پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہی ۔ ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو نے بتایا کہ پرتو روہیلہ کی رحلت کے بعد اُن کے اہل خانہ نے پرتو روہیلہ کی ذاتی کتابوں کا ذخیرہ اکادمی ادبیات پاکستان کو عطیہ کیا جنہیں اکادمی کی احمد فراز لائبریری میں نمایاںطور پر رکھ کر پڑھنے والوں کے لیے مہیا کیا گیا ہے۔ اکادمی کی احمد فراز لائبریری کو وسعت دی جارہی ہے اس میں ادیبوں کی ذاتی لائبریریوں کی کتب سے کارنرز قائم کیے جائیں گے۔ اہل قلم اپنی کتب کے ذخیروں کو محفوظ بنانے کے لیے اکادمی کو عطیہ کر سکتے ہیں۔ادیبوں کی طرف سے عطیہ کی گئی کتابوں سے ان کے نام کے کارنرز قائم کیے جائیں گے جس سے قاری بڑی تعداد میں مستفید ہو سکیں گے۔پرتو روہیلہ بُک کارنر کا افتتاح پیر محمد اسلم بودلہ ، چیئرمین قائمہ کمیٹی(قومی اسمبلی) برائے اطلاعات، نشریات و قومی ورثہ نے کیا تھا۔ انہوں نے اہل قلم اور مرحوم اہل قلم کے لواحقین سے درخواست کی ہے کہ وہ ذخیرہ ٔ کتب کو اکادمی کی لائبریری کو عطیہ کریں جس سے قاری مستفید ہو سکیں۔ واضح رہے کہ اکادمی ادبیات کی احمد فراز لائبریری اہل قلم، طلباء، ریسرچ اسکالرز اور عام پڑھنے والوں کے لیے دفتر ی اوقات کار کے علاوہ ہفتہ۔اتوار کو بھی کھلی رہتی ہے، جہاں پر نہ صرف کتب کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے بلکہ گھر میں مطالعے کے لیے بھی کتابیں جاری کرائی جا سکتی ہیں۔
Partou Rohilla's Corner

Comments are closed