صوفی ادب دو روزہ قومی کانفرنس،ملتان19-20مئی،2017

پہلادن:
اکادمی ادبیات پاکستان کی مرکز سے دور کانفرنسوں کا انعقاد ایک احسن قدم ہے۔ صوفی ادب پر کانفرنس صوفیا ء کرام کے پیغام کو عام کرنے کا ذریعہ بنے گی۔ ان خیالات کااظہارعکسی مفتی نے اکادمی ادبیا ت پاکستان کے زیر اہتمام ’’صوفی ادب‘‘ پرملتان میں منعقدہ دو روزہ قومی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں صدارت کرتے ہوئے کیا۔ افتتاحی اجلاس میں ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو، چیئرمین، اکادمی ادبیات پاکستان ، نے خطبہ ٔ استقبالیہ پیش کیا اور کانفرنس کے اغرض و مقاصد کے حوالے سے تفصیل بتائی۔ افتتاحی سیشن میں ڈاکٹرقاضی جاوید ، عکسی مفتی ، رفعت عباس، ڈاکٹر غضنفر مہدی، ڈاکٹراسد جمال پلی او رڈاکٹر سفیان صفی نے اپنے اپنے موضوعات کے حوالے سے مقالات پیش کیے۔ عکسی مفتی نے کہا کہ مرکز سے دورمنعقد کی جانے والی کانفرنسوں سے ادیبوں کے درمیان باہمی روابط مستحکم ہوںگے۔ انہوں نے کہا کہ پیغام ِ امن ، اخوت اور بھائی چارے کی فضا ہموار کرنے کے لیے اہل قلم کو آگے بڑھنا چاہیے۔ اہل قلم کی کاوشوں سے ملک میں امن، محبت اور یکجہتی کی فضا ہموار ہو سکتی ہے۔ قلم کی طاقت دہشت گردوں کے خلاف ایک بڑا ہتھیار ہے۔ عکسی مفتی نے ’’بابا فرید کی کہانی‘‘ کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش بھی کیا۔ ڈاکٹر محمدقاسم بگھیو، چیئرمین اکادمی، نے کہا کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں کانفرنسوں سے ادیبوں کے درمیان روابط کی ایک نئی صورت پیدا ہوئی ہے۔ امن ، محبت ، اخوت اور بھائی چارے کے پیغام کو مد نظر رکھتے ہوئے اکادمی ادبیات پاکستان نے پروگرام ترتیب دیا ہے کہ ملک کے مختلف شہروںمیں ہم آہنگی اور ادب کے حوالے سے کانفرنسز کا انعقاد کیا جائے ، اس سلسلے کی دو کانفرنسیں مظفر آباد ۔آزاد جموں و کشمیر اور پشاور یونیورسٹی ، خیبر پختونخوا میں منعقد کی جا چکی ہیں۔ اکادمی کے منصوبوں میں شامل ہے کہ’’ادب اور ہم آہنگی ‘‘ کے موضوع پر آئندہ تین مزید کانفرنسوں کاانعقاد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوفیاء نے ہمیشہ محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیاہے۔ ملتان صوفیا کی سرزمین ہے اور اکادمی کی خواہش تھی اس سرزمین پر اہل قلم کے ذریعے صوفیا ء کے پیغام کو عام کیا جائے تاکہ ملک میں امن، محبت اور بھائی چارہ فروغ پا سکے۔ غضنفرمہدی نے کہا کہ اہل قلم کی خواہش تھی کہ ملتان میں اکادمی کا دفتر قائم کیا جائے، اس سے ا س خطے کے اہل قلم ادبی دھارے میں بھر پور انداز سے شریک ہو سکیں گے۔ اکادمی نے ملتان میں دفتر قائم کر کے ایک بڑ اکام کیا ہے۔ اس کے لیے وسیب کے تمام اہل قلم اکادمی کے شکر گزار ہیں۔
دوسرادن:
صوفیاء نے اپنی شاعر ی اور زندگی کے ذریعے امن ، اخوت اور بھائی چارے کا پیغا م دیا ہے ،انکی تعلیمات پر عمل کرکے ہم ملک میں یکجہتی فضا ہموار کر سکتے ہیں۔یہ بات بیرسٹر ظفر اللہ خان ایڈووکیٹ، معاون خصوصی وزیر اعظم برائے قانون و انصاف؍وزیر مملکت نے اکادمی ادبیا ت پاکستان کے زیر اہتمام ملتان میں ’’صوفی ادب‘‘ پر دو روزہ قومی کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں ثروت محی الدین، ڈاکٹر احسان دانش ، ڈاکٹر عبدالقدوس صہیب، ڈاکٹر پرویز مہجوراور ڈاکٹر نصراللہ خان ناصرموضوعات کی مناسبت سے مقالات پیش کیے۔ سٹر ظفر اللہ خان نے کہا کہ صوفی ادب پر کانفرنس اکادمی ادبیات کی کانفرنس ایک احسن قدم ہے صوفیا  کے پیغام کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظرمحبت اور اخوت اور بھائی چارے کا فروغ ضروری ہے۔ صوفیا نے ہمیشہ انسانوں سے محبت کا درس دیا ہے۔ن کے اس پیغام کواہل قلم آگے بڑھائیں ۔انہوں نے کہا کہ ملتان صوفیا کی سرزمین ہے یہاں کانفرنس کے انعقاد سے ملک بھر کے لیے محبت اور یگانگی کا جائے گا۔اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو نے کہا کہ حکو مت علی ادبی اداروں کی سرپرستی کررہی اور ادب کے فروغ میں دلچسپی رکھتی ہے۔ حکومت کی سرپرستی کے سبب علمی ادبی ادارے بہتر کام کر رہے ہیں۔ اکادمی ادبیات پاکستان کو ادب کے فروغ کے حوالے فنڈ دیئے کئے ہیں اور اکادمی نے قومی ہم آہنگی اور امن کے حوالے کئی روگرام ترتیب دیئے ہیں۔

Comments are closed