اہل قلم سے ملیے:خالدہ حسین

کہانی لکھنے کے عمل سے اپنے وجود سے رشتہ قائم رکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔ یہ بات ممتاز دانشور اورافسانہ نگارخالدہ حسین نے اکادمی ادبیات پاکستان کے رائٹرز کیفے کے زیر اہتمام تقریب ’’اہل قلم سے ملیے‘‘ (Meet a writer over a cup of tea) میں کہی۔اکادمی ادبیات پاکستان میں رائٹرز کیفے کے تحت خالدہ حسین کے ساتھ تقریب منعقد ہوئی ۔ ادیبوں ، دانشوروں نے ان کی فنی زندگی اور شخصیت کے حوالے سے گفتگو کی ۔خالدہ حسین نے کہا کہ میں نے کبھی فیشن کے طور پر اور کسی کی نقل میں نہیں لکھا بلکہ جو کچھ محسوس کیا ، دیکھا ا س مشاہدے اور تجربے میں لوگوں کو شریک کیا۔ انہوں نے کہا کہ زمانی تسلسل میرا بڑا مسئلہ رہا ہے۔ ماضی، حال اور مستقبل یہ سارے زمانے آپس میں مل جاتے ہیں اور احساس نہیں ہوتا کہ کون سی بات پہلے ہوئی اور کونسی بعد میں ۔ انہوں نے بتایا کہ میرا بچپن نہایت خوشگوار گزار ، اساتذہ، رشتہ داروں اور دوستوں نے بہت حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے کہا کہ انسان وہ کچھ لکھے جس سے اس کے دنیا میں آنے کا مقصد رائیگاں نہ جائے۔ انہوں نے کہا کہ میرا ہونا ، میرے نہ ہونے کے خلاف جنگ ہے ، میں مسلسل حالت جنگ میں ہوں۔ میری پذیرائی ایک سپاہی کی طرح ہونی چاہیے، چاہے میں ساری زندگی بستر پر رہوں۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو ، چےئرمین ، اکادمی ادبیات پاکستان نے کہا کہ خالدہ حسین عصر حاضر کی ایک ممتاز افسانہ نگار ہیں۔ انہوں نے استعارہ ، فیشن کے طور پر نہیں اپنایا بلکہ ان کی کہانی کا بناؤ اس کا تقاضا کرتا تھا۔ انہوں نے اپنی کہانیوں میں نسوانیت کی نہیں بلکہ انسانیت کی نمائندگی کی۔انہوں نے کہا کہ میٹ اے رائٹر کے سلسلہ کے تحت اٹھارہویں تقریب خالدہ حسین کے ساتھ منعقد کی جارہی ہے ۔ تقریب میں کشورناہید،اشفاق سلیم مرزا، محمد حمید شاہد، شعیب خالق، نیلوفر اقبال، فریدہ حفیظ، ڈاکٹر مقصودہ جعفری، سید ضیاء الدین نعیم، ڈاکٹر نجیبہ عارف، افشاں عباسی، صنوبر، امینہ خان، سید محمد علی، محبوب ظفر، منزہ یعقوب، خالدہ لئیق بابری، فاخرہ نورین، حمیرا
اشفاق، ڈاکٹر محمد اویس قرنی کے علاوہ خالدہ حسین کی صاحبزادی، نواسے اور دیگر احباب نے شرکت کی۔

Comments are closed