قومی ہم آہنگی میں ادب کا کردار کے موضوع پر دو روزہ قومی کانفرنس فاٹا

اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام قومی ہم آہنگی میں ادب کا کردار کے موضوع پر دو روزہ قومی کانفرنس فاٹا بمقام خیبر یونین ہال اسلامیہ کالج یونیورسٹی  پشاور  میں منعقد ہوا جس میں سندہ،بلوچستان،کشمیر ،پنجاب،گلگت بلتستان سے کئی نامور اور نمائیندہ اہل قلم کے علاوہ فاٹا اور خیبر پختون سے تعلق رکھنے والے سینئر اور معروف اہل قلم نے کثیر تعداد میں شرکت کی اس موقع پروفیسر ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو چیرمین اکادمی ادبیات پاکستان شرکاء محفل سے خطاب کرتے ہوئے کانفرنس  کے موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور اس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ادب دلوں کو جوڑکر ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے اور انسانیت کا قرینہ سیکھانے کے ساتھ ساتھ اپنی مٹی ، اقداراور روایات سے محبت کا درس دیتے ہوئے قومی ہم آہنگی اور ملکی یکجہتی میں اہم کردارادا کرتا ہے جس کا سہرا اہل قلم کے سر ہے- انہوں نے کہا کہ اہل قلم نے زمانہ امن کے علاوہ مشکل سے مشکل دورمیں بھی قوم میں ہم آہنگی کا جذبہ پیدا کرکے اسے متحدہ رکھنے کی بھرپور سعی کی ہے اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا- پختون شعراء نے بھی یہ فرض بطریق احسن نبھایا ہے۔ ان میں خوشحال خان خٹک، رحمان بابا کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں جنہوں نے اپنے کلام کے ذریعے پختونوں کی روحانی اور اخلاقی تربیت کے علاوہ ان میں اتقاق و اتحاد کا جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کی جن کے کلام کی اشاعت وقت کا اہم تقاضا ہے اس سلسلے میں اکادمی ادبیات نے کافی کام کیا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے کئی پاکستانی مشاہیر خصوصا صوفی شعراء کے کلام کے تراجم کتابی صورت میں شائع کئے ہیں تاکہ  اس بارے میں تمام زبانوں میںتحلیق شدہ ادب سے استفادہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تمام زبانیں ہماری اپنی ہیں اسلئے انکا سیکھنا اور سمجھنا بھی قومی یکجہتی کے لئے بہت اہم ہے اس سلسلے میں یونیورسٹیاںملکی اور غیر ملکی طلباء کے لئے مختلف کورسز کا اجراء کرکے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ قومی اسمبلی کی اسٹنڈنگ کمیٹی نے اکادمی کے کردار کو مزید موثر بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت اکادمی تعلیمی بورڈز کو اشاعت کے لئے کتب تجویز کریگی ۔ا نہوں نے موجودہ فاٹا کانفرنس کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اکادمی کی خواہش ہے کہ فاٹا کے اہل قلم بھی نہ صرف قومی یکجہتی میں اپنا کردار ادا کریں بلکہ انہیں ادب کے فروغ اور ادیبوں کے فلاح و بہود کے لئے اکادمی کے اقدامات سے اگاہی حاصل ہو -تاکہ وہ بھی قومی دائرے میں رہتے ہوئے اہل قلم کے بہبود کے منصوبوں سے فائدہ اٹھا سکیں-انہونے سال کی آخری سہماہی میں فاٹایوتھ فیسٹول کے انعقادکابھی ا علان کیا .  اس موقع پر چاروں صوبوں سے آئے ہوئے نامور اہل قلم کشور ناہید ، جامی چانڈیو، شاہد زمان، شمیم عارف، سلاب محسود، محمد حمید شاہد، رئوف پاریکھ ، وحید بسمل ، حسینہ گل ، شاکر حسین شاکر ، ڈاکٹر کلیم شنواری، تاج جویو، پرویش شاہین ، پروفیسر اسلم تاثیر ، ڈاکٹر اباسین یوسفزئی ،رحمت شاہ سائل، ڈاکٹر محمد یامین ، پروفیسرامر سندھواور باسط بھٹی نے قومی ہم آہنگی میں ادب کا کردار کے موضوع پر فکر انگیز مقالات پیش کئے ۔ پروگرام کی پہلی نشست کی صدارت پروفیسرڈاکٹرحبیب احمداسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے کی۔انہوں نے اپنے صدارتی خطبے میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے خیبر یونین ہال میں انعقاد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دوسرے صوبوں سے آئے ہوئے مندوبین سمیت تمام شرکاء تقریب کو خوش آمدید کہا اور یقین دلایا کہ وہ نہ صرف ادبی پروگراموں کے انعقاد میں اکادمی کو ہرممکن تعاون اور سہولت فراہم کریں گے بلکہ اکادمی کے ساتھ مل کر صوبائی ٗ قومی اور بین الاقوامی سطح کے پروگراموں کے انعقاد کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے دوسرے صوبوں سے آئے ہوئے ادبی شخصیات کو ا تحائف بھی پیش کئے۔کانفرنس کے موقع پر پاکستانی زبانوں کا مشاعرہ بھی منعقد ہوا – آخر میں چیئرمین اکادمی نے کامیاب تقریب کے انعقادپرارڈی اکادمی ادبیات پشاوراورعملے کے کام کی تعریف کی اور معاونت پر وی سی اسلامیہ کالج یونیورسٹی ،ڈاکٹرنوشاد مہمندڈین اسلامیہ کالج یونیورسٹی،ڈاکٹرذکاء اللہ خان چیف ایگزیٹیوفاٹا، پروفیسر نزیر تبسم، ڈاکٹر نصراللہ جان، پروفیسر اسلم تاثیر،پروفیسراباسین یوسفزئی کاروان حوا، ، لٹریری  فورم ، پاکستان وومن رائٹر فورم ، پاکستان فاٹا یوتھ امپاورمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن ، وومن رائٹر فورم ، فاٹا یوتھ اسمبلی کا شکریہ ادا کیا

Comments are closed