اہل قلم سے ملیے: ڈاکٹر رشید امجد

میرا تخلیقی سفر باطن سے کائنات تک محیط ہے سو اس سفر کی روداد میرے تمام افسانوں میں نمایا ں ہے۔ یہ باتممتاز دانشور افسانہ نگار اور محقق ڈاکٹر رشید امجدنے اکادمی ادبیات پاکستان کے رائٹرز کیفے کے زیر اہتمام تقریب ’’اہل قلم سے ملیے‘‘ (Meet a writer over a cup of tea) میں کہی۔اکادمی ادبیات پاکستان میں رائٹرز کیفے کے تحت ڈاکٹر رشید امجدکے ساتھ تقریب منعقد ہوئی ۔ ادیبوں ، دانشوروں نے ان کی فنی زندگی اور شخصیت کے حوالے سے گفتگو کی ۔ڈاکٹر رشید امجد نے کہا کہ میں 5مارچ1940کو سری نگر میں پیدا ہوا ۔ میرے والد صاحب قالینوں کا کاروبار کرتے تھے، ہم معاشی طور پر خوشحال زندگی گزار رہے تھے کہ حالات نے پلٹا کھایا اور ہم وہاں سے راولپنڈی منتقل ہوگئے، یہاں پر کاروبار چل نہ سکا اور ہم معاشی طور پر بدحالی کا شکار ہوگئے، یہ میری زندگی کا مشکل ترین دور تھا۔ میری والدہ مجھ سے بے پنا محبت کرتی ، مجھ پر پابندیاں بھی عائد تھیں جس کی وجہ سے میری نفسیاتی کیفیت عجیب ہوگئی تھی۔ میں نے مشکل سے میٹرک پاس کیا ، اکثر سکو ل اور گھر سے بھاگ جایا کرتا تھا۔ میں نے 501ورکشاپ اور PWDمیں منشایاد کے جونئیر کے طور پر کام کیا، وہاں پر مجھے منشا یاد اور اعجاز راہی نے افسانے کے بارے میں بتایا اور وہیں سے میرا تخلیقی سفر شروع ہوا۔ پہلے پہل میں رومان میں چھپا تھا بعد میں مرزا ادیب نے میری حوصلہ افزائی کی اور’’ ادب لطیف‘‘ میں افسانے چھپنے لگے، اسی طرح داستان گو، اوراق اورسیپ میں بھی میرے افسانے شائع ہوئے۔انہوں نے کہا کہ غلام رسول طارق، افسانہ نگار اور شاعر تھے اور شعر و ادب کو خوب جانتے تھے ، انہی کے کہنے پر میں نے ایف اے، بی اے اور پھر ایم اے کیا۔ لاہورمیں افتخار جالب اور کشور ناہید جیسی شخصیات سے ملاقاتیں ہوتی تھیں ، انہی لوگوں نے میر ے شعور کو وسعت دی، ممتاز مفتی سے بھی بہت کچھ سیکھا ہے۔ ابتداء میں منٹو کی طرح لکھتا تھا لیکن بعد میں آہستہ آہستہ میرا اسلوب بنتا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ایک وقت میں شہر افسانہ بن گیا تھا جس میں تین نسلوںکے افسانہ نگار موجود تھے اور ہر لکھنے والے کا الگ اسلوب تھا،یہاں بھی ادبی تربیت ہوئی۔ انہوں نے اپنا افسانہ’’وقت اندھا نہیں ہوتا‘‘سنایا۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو، چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان ، نے کہا کہ میٹ اے رائٹر کے سلسلہ کے تحت سترہویں تقریب ہے۔آج ہمارے مہمان ڈاکٹر رشید امجد ہیں ۔ میں اُن کا شکر گزارہوں کہ انہوں نے عزت بخشی۔ڈاکٹر رشید امجد ملک کے اہم افسانہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں، انہوں نے افسانے کے ساتھ ساتھ تنقید اور تحقیق کے حوالے سے بھی بہت کام کیا ہے۔ محمد حمید شاہد، پروفیسر جلیل عالی اور ڈاکٹر احسان اکبر نے کہا کہ رشید امجد اپنے عہد کے منفرد افسانہ نگار ہیں۔ انہوں نے نہ صرف افسانے کی زبان بدلی ہے بلکہ فکر و فن اور علامت و تجرید سے افسانے میں ایک نئے رجحان کو بھی جنم دیا ہے۔ ڈاکٹر رشید امجد کی اہلیہ نے کہا کہ رشید امجد ایک اچھے انسان ، شوہر اور اچھے باپ بھی ہیں، انتہائی سادہ مزاج آدمی ہیں، انہیں روپے پیسے سے کوئی رغبت نہیں، سادہ اور پرسکون گزر کر رہے ہیں۔ تقریب میںڈاکٹر احسان اکبر، پروفیسر جلیل عالی، کشور ناہید،محمد حمید شاہد، ناصر زبیری، فریدہ حفیظ، رحمن حفیظ، خلیق الرحمان، محبوب ظفر، امین کنجاہی، سبطین رضا لودھی، ڈاکٹر راشد حمید، طارق شاہد، مسعود اقبال ہاشمی ،محمد سعید، احمد بلال اور دیگر نے شرکت کی۔

Comments are closed