نیشنل اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے اطلاعات ، نشریات و قومی ورثہ کاا جلاس

نیشنل اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے اطلاعات ، نشریات و قومی ورثہ کاا جلاس پیر محمد اسلم بودلہ کی صدارت میں اکادمی ادبیات پاکستان کے دفتر میں منعقد ہوا۔ ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو،چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان، نے اکادمی کے بارے میں بریفنگ دی۔کمیٹی کے اجلاس میں شاکر بشیر اعوان، محمد طلال چوہدری، میاں محمد فاروق، طاہر اقبال چوہدری، پروین مسعود بھٹی، عارفہ خالد پرویز، عمران ظفر لغاری، ملک محمد عامر ڈوگر، صاحبزادہ طارق اللہ، ابجنیئر عامر حسن، سیکرٹری ، قومی تاریخ و ادبی ورثہ اور جوائنٹ سیکرٹری، جنید اخلاق نے شرکت کی۔ کمیٹی نے اکادمی ادبیات پاکستان کی کارکردگی کو سراہا اور کہاکہ اکادمی کی کارکردگی بہت عمدہ ہے۔ اس کے تحت پچھلے دو سالوں میں جو پروگرام اور کتب کی اشاعت ہوئی وہ ایک اہم کام ہے۔ کمیٹی کے ممبران نے امید ظاہر کی کہ اکادمی ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو کی سربراہی میں آئندہ بھی اسی طرح کام کرتے ہوئے آگے بڑھے گی۔ ممبران نے کہا کہ قلم کی طاقت بہت زیاد ہے اور اسے ہمیں معاشرے کو اپنے اقدار کی طرف واپس لانے اور امن کے قیام کے لیے لکھنے والوں کو اپنے قلم کو ضربِ قلم کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے تا کہ  وہ ادب کے میدان میں آگے بڑھ سکیں اور ان کے ذہنوں کی صحیح طور پر نشوونما ہو سکے ۔ ممبران نے کہاکہ اکادمی ادبیات پاکستان اور وزارت تعلیم کو ساتھ مل کے کام کرناچاہیے تاکہ نوجوان نسل میں ادب فروغ پاسکے اور وہ صحیح سمت کا تعین کر سکیں۔ ممبران نے رائے دی کہ اکادمی جیسی کارکردگی باقی اداروں کی بھی ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو نے اکادمی کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اکادمی ادبیات پاکستان نے اب تک امن کے حوالے سے متعدد کانفرنسیں کرا چکی ہے۔ یہ کانفرنسیں بلوچستان، سندھ اورپنجاب میں منعقد کی گئی ہیں ۔حا ل ہی میں آزاد جموں و کشمیر میں’ ’قومی ہم آہنگی میں ادب کا کردار‘‘ کے موضوع پر منعقد کی گئی اور اسی موضوع پر آئندہ لنڈی کوتل، گلگت ؍بلتستان اور باڑ گلی میں منعقد کی جائیں گی۔ ایک کانفرنس ’’صوف ادب‘‘ پر ملتان میں منعقد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اکادمی نے پچھلے دو سالوں میں ’پاکستانی ادب کے معمار‘ کے منصوبے کے تحت پاکستان کے اہل قلم پر متعدد کتابیں شائع کی ہیں اس کے علاوہ سال بہ سال نظم اور نثر کا انتخاب اور نوجوان نسل کو رہنمائی فراہم کرنے کے لیے’’ ٹیکنیکل کتب‘‘ کی اشاعت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان کا سہ ماہی رسالہ’’ادبیات‘‘ اورششماہی رسالہ ’’پاکستانی لٹریچر‘‘ باقاعدگی سے شائع ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملتان میں اکادمی کے دفتر کا قیام ، اکادمی کی کارکردگی کو بڑھانے کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ کمیٹی کے ممبران نے اکادمی ادبیات پاکستان کی لائبریری ، کتاب گھر،رائٹرز ہائو س اور اکادمی کے آڈیٹوریم کا دورہ بھی کیا۔انہوں نے اکادمی کے آڈیٹوریم کے کام کی رفتار کودیکھتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا ۔

Comments are closed