قومی سلامتی میں اہل قلم کا کردارسمپوزیم

ہمیںہر سطح پر دہشت گردی کی سوچ کو ختم کرنا ہے، جو ادیب شاعر ہی کر سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار لیفٹیننٹ جنرل(ر) ناصرخان جنجوعہ ، مشیر وزیر اعظم برائے قومی سلامتی ڈویژن ،نے اکادمی ادبیات پاکستان اور قومی سلامتی ڈویژن کے اشتراک سے پاکستان کے معروضی حالات اور عصری تقاضوں کومدّنظر رکھتے ہوئے’’ قومی سلامتی میں اہل قلم کا کردار‘‘ کے عنوان سے منعقدہ سمپوزیم میںخطاب کرتے ہوئے کیا۔ سمپوزیم میں ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو، چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان ،نے استقبالیہ کلمات اور سمپوزیم کے مقاصد سے آگاہ کیا۔ موجود شرکاء محمد اظہار الحق، محمد حمید شاہد، سرفراز شاہد، محبوب ظفر، گلزار حسنین، پروفیسر فتح محمد ملک، مسعود مفتی،وفا چشتی، م۔ر شفق۔ شعیب خالق ، ڈاکٹر توصیف تبسم، پروفیسر قیصرہ علوی،اقبال حسین افکار، طارق نعیم، پروفیسر وسیمہ شہزاد اور دیگر نے گفتگو میں حصہ لیا۔ لیفٹیننٹ جنرل(ر) ناصرخان جنجوعہ نے کہا کہ یہ اہل قلم کا کام ہے کہ قومی سلامتی کے کن کن پہلوئوںپر کیسے لکھا جانا چاہیے۔ انہو ں نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھا جا سکتا ہے ، اگر ہم نے ماضی سے کچھ نہ سیکھا تو آگے نکلنا محال ہوگا۔ ناصر جنجوعہ نے کہا کہ قومی سلامتی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ملکی سرحدوں کی حفاظت کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ قومی سلامتی کے لیے اقتصادیات کا مستحکم ہونا ضرور ی ہے اس کے بغیر قومی سلامتی کا مفہوم پورا نہیں ہوتا۔ قومی سلامتی سے مشروط، سیاسی استحکام ، لوگوں کی جان و مال اور عزت نفس، تعلیم، صحت اور ملک کے اندر قدرتی وسائل سے بھر پور استفادہ ، غر ض ہر وہ کام بہتر طریقے سے کرنا چاہیے جس سے ملکی خوشحالی میں اضافہ ہو اور ان تمام محرکات کا مرکز انسان کی فلاح ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمیں سب سے زیادہ نقصان دہشت گردی سے ہواہے۔ ہمیںہر سطح پر دہشت گردی کی سوچ کو ختم کرنا ہے، جو ادیب شاعر ہی کر سکتے ہیں اور اس کے لیے باہمی مکالمہ سے بہتر طریقہ کوئی نہیں ہے۔ ہمیں پہلے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا ہوگا کہ آخر کہاں پر غلطیاں ہوئیں اور انہی غلطیوں کا سدباب بہت ضرور ی ہے۔ انہوں نے خصوصاً بلوچستان میں قومی ہم آہنگی کے حوالے سے کلپس دکھائے اور کہا کہ ناراض بلوچوں کو ہم قومی دھارے میں لے کر آئے ہیںجو کہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ جس طرح ہم سب ملکر کوششیں کررہے کہ ایک دن ضرور آئے گا کہ وطن عزیز سے دہشت گردی جیسی لعنت ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقومی سطح پر رونماہونے والے دو واقعات روس کی افغانستان میں مداخلت اور پھر افغانستان سے انخلاء کے بعد کی صورتحال اور خصوصاً9/11کے بعد بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو درپیش آنے والے چیلنجز اور اس کے ادراک کے حوالے سے دنیا بھر میں پاکستان کے وقار اور سوفٹ امیجز کے حوالے سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ موجود دور حکومت عوام کے مفاد کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھائے گی اور ہم ہر سطح پر معاشرے میں امن اور خوشحالی چاہتے ہیں ، یہی ہمارا منشور ہے۔ ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو نے کہا کہ اکادمی کی دیرینہ خواہش تھی کہ قومی سلامتی کے حوالے سے اہل قلم تجاویز پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ محبت، اخوت اور بھائی چارے کی فضا ہموار کرنے کے حوالے سے پاکستان کے صوفی اور دیگر شعراء شاہ لطیف، جام درک، بلھے شاہ ، رحمان بابا ، خوشحال خان خٹک اور فیض احمد فیض نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے اور اب بھی ہمارے ادیب محبت ، امن اور بھائی چارے کی فضا ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے کئی پہلوہیں، مقصد سماج میں امن اور خوشحالی لانا مقصود ہے۔ اس سلسلے میں اکادمی ادبیات پاکستان کے تحت گزشتہ سالوں میں ہم چار کانفرنسیں اسی قومی وحدت کے جذبے کے تحت منعقد کر چکے ہیں اور گزشتہ دنوں مظفر آباد میں قومی ہم آہنگی میں ادب کا کردار کے عنوان سے ایک کانفرنس منعقد کی ہے اس کے علاوہ لنڈی کوتل، گلگت ؍بلتستان، باڑہ گلی اور ملتان میں بھی اسی طرح کی کانفرنسیں منعقد کررہے ہیں۔ مقصدقومی یکجہتی اور پورے علاقے کے لوگوں میں قومی آہنگی کو پروان چڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہل قلم نے ہمیشہ اپنی سوچ، نظریات کے ذریعے قومی ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور آئندہ بھی اہل قلم اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے۔

Comments are closed