دو روزہ قومی کانفرنس ’’قومی ہم آہنگی میں ادب کا کردار”

پہلادن:

ادیب اور شاعر اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرے کی اچھائیوں کو اُجاگر کرتے ہیںاور ظلم اور بربریت کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ پاکستانی اہل قلم کی طرح کشمیر ی اہل قلم نے بھی بہت سی یادگار کتابیں اور تحریریں تخلیق کی ہیں۔کشمیری اہل قلم بھی قومی دھارے میں شمیولیت کابرابر حق رکھتے ہیں۔یہ بات  وزیر صنعت آزاد کشمیر نورین عار ف نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام ’’قومی ہم آہنگی میں ادب کا کردار‘‘ کے موضوع پر مظفر آباد، آزا د جموں و کشمیر میں منعقدہ دو روزہ قومی کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر کیا۔یہ اکادمی ادبیات پاکستان کی کشمیر میں پہلی کانفرنس ہے ۔وہ کانفرنس کے افتتاحی سیشن میں صدر آزاد جموں و کشمیر کی طرف سے بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئیں۔افتتاحی سیشن میں موضوع کی مناسبت سے ڈاکٹر اقبال آفاقی، زاہد حسن، ڈاکٹر ادل سومرو، وحید زہیر اور اکرم سہیل نے مقالات پیش کیے۔نظامت راحت فاروق نے کی۔ دوروزہ قومی کانفرنس میں تمام پاکستانی زبانوں اردو، پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتو، سرائیکی، براہوئی، ہندکو، شنا اور کشمیری زبانوں کے ملک بھر سے اہل قلم شریک ہوئے۔ وزیر صنعت آزاد کشمیر نورین عار ف نے کہا کہ شاعروں اور ادیبوں کے خواب اور ان کی تحریریں ہمارے امن اور سلامتی کے ضامن ہیں۔ وہ دنیا کو پرُامن دیکھنا چاہتے ہیں۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کشمیر کے فنون اور ادب بھی پاکستانی فنون و ادب سے مطابقت رکھتے ہیں۔ یہاں کے ادیبوں اور شاعروں کی سو چ بھی کسی پاکستانی ادیب کی طرح ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان نے طویل عرصے سے ادبی حوالے سے نظر انداز اس خطے کے شاعروں اور ادیبوں کی طر ف جو خصوصی توجہ دی اس کے لیے اکادمی ادبیات پاکستان کے ممنون ہیں۔ اس کانفرنس کے انعقاد سے اندازہ ہوتا ہے کہ کشمیری اہل قلم کو بھی اب قومی دھارے میں شامل کیا جارہا ہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان نے کشمیر میں اپنے دفتر کے قیام کا جو عندیہ دیا ہے اس کے لیے کشمیر کے لکھاریوں اور حکومت کی طرف سے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔ ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو، چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان نے کہا کہ کشمیری علم و ادب کو اپنے قریب سمجھتے ہیں اور کشمیری ادیب تمام پاکستانی ادیبوں کی طرح اہمیت کے حامل ہیں۔ اکادمی نے ’’قومی ہم آہنگی میں ادب کا کردار‘‘ کے موضوع پر کانفرنسوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے ۔ جس کی پہلی کانفرنس مظفر آباد ،آزاد جموں کشمیر میں منعقد کی گئی۔ ان کانفرنسوں کے ذریعے تمام زبانوں کے اہل قلم کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں ۔ اس طرح کی کانفرنسوں سے قومی ہم آہنگی کی فضا ہموار ہوگی اور ادیبوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع ملے گا۔ کشمیر میں منعقدہ کانفرنس کے ذریعے اکادمی کی خوہش تھی کہ کشمیری اہل قلم کو بھی قومی دھارے میں لایاجائے اور کشمیر میں لکھے جانے والے ادب کو نہ صرف پاکستانی بلکہ بیرون ممالک میں بھی متعار ف کرایا جائے ۔ا نہوں نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان کشمیرمیں اپنا دفتر قائم کرنے کے لیے کوششیں کررہی ہے اور جلد ہی یہاں دفتر کا قیام عمل میں آجائیگا جس کے ذریعے کشمیر ی اہل قلم پاکستان کے دیگر اہل قلم سے رابطے میں آئیں گے۔کانفرنس کا دوسرا سیشن ڈاکٹر محمدقاسم بگھیو، چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان کی صدارت میں منعقد ہوا۔احمد عطاء اللہ مہمان خصوصی تھے ۔ اشنا باجوڑے، ڈاکٹر سعاد ت سعید، حفیظ خان، عقیل عبا س جعفری، عزیز اعجاز، پروفیسر سعدیہ طاہر، اکبر حسین اکبر اور جواد جعفری نے قومی ہم آہنگی میں ادب کا کردار کے موضوع پر مقالات پیش کیے ۔ پہلے کے دن کے اختتام پر پاکستانی زبانوں کامشاعرہ منعقد ہوا ۔مشاعرے کی نظامت آمنہ بہار رونا اور اعجاز نعمانی نے کی۔

دوسرادن:

اکادمی ادبیات پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف آپریشن’’ردالفساد‘‘ میں باقاعدہ شریک ہے اور اپنا کردار بخوبی انجام دے رہی ہے۔ یہ بات ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو، چیئرمین ، اکادمی ادبیات پاکستان ، نے ’’قومی ہم آہنگی میں ادب کا کردار‘‘ کے موضوع پر مظفر آباد، آزا د جموں و کشمیر میں منعقدہ دو روزہ قومی کانفرنس کے سیشن کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ مظفر آباد سمیت ملک کے دیگر حصوں لنڈی کوتل، گلگت؍بلتستان ، باڑہ گلی اور ملتان میں کانفرنسز منعقد کی جارہی ہیں۔ ان کانفرنسز کا مقصد ملک بھر کے ادیبوں کے نظریات سے استفادہ کرنے کے ساتھ مقامی ادباء شعراء کے خیالات سے آگاہی حاصل کرنا ہے تاکہ ملک کے تمام ادیب مل بیٹھ کر مکالمہ کی صورت ایک نکتہ پرپہنچ سکیں اور وطن عزیز سے دہشت گردی اور نفرت کو ختم کریں۔ تمام ادیبوں کے خیالات اور نظریات کی روشنی میں ایک قرار داد منظور کی جائے گی جو کہ ہم حکومت پاکستان کے سامنے رکھیں گے کہ یہی طریقہ ہے جس سے ہم ملک کے اندر سے دہشت گردی کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادب معاشرے پر انتہائی دورس اثرات مرتب کرتا ہے۔ اد ب کے ذریعے سے ہم معاشرے میں منفی سوچ کو مثبت سوچ میں بدل سکتے ہیں۔ ادب کے ذریعے سے ہی ہم خاموش انقلاب لا سکتے ہیں اور یہی ہمارا مشترکہ مشن ہے جس میں ریاستی اداروں سمیت تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بھی کردارادا کرنا چاہیے۔ اس سیشن میں پاکستان کے مختلف شہروں اور آزاد جموں و کشمیر سے  سعد اللہ شاہ، عائشہ مسعود، نجم الدین احمد، مدد علی سندھی، فاروق سرور، حبیب موہانہ اور پروفیسر محمد رفیق بھٹی نے موضوع کی مناسبت سے مقالات پیش کیے۔ کانفرنس کے اختتامی سیشن کی صدارت کرتے ہوئے شاہ غلام قادر، اسپیکر قانون ساز اسمبلی، آزاد جموں وکشمیر نے کہا کہ زبان کی ترقی کلچر کے فروغ سے منسلک ہے جب کلچر ترقی نہیں کرے گا اس کی زبان بھی ترقی نہیں کر سکتی۔ادب و ثقافت دونوں ہم آہنگ ہیں اور اسی ہم آہنگی کو قومی سطح پر منواناپڑے گا جس کے لیے ادیبوںاور شاعروں کو جدوجہد کرنی پڑے گی۔  ادب کے فروغ کے لیے ہمیں اقدامات کرنے چاہیے۔ کشمیری اہل قلم اپنے قلم کے ذریعے قومی ہم آہنگی اور امن کا فروغ اپنی تحریروں کے ذریعے اُجاگر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اہل کشمیر نے ملکی وحدت اور سلامتی کے لیے بے شمار قربانیاں دیں ہیں اور انشاء اللہ ہم آزادی اور اپنے حقوق کی جنگ لڑتے رہیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں بھی پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح قومی دھارے میں شامل کیا جائے ۔ قومی ہم آہنگی میں کشمیریوں کا کردار مثالی رہے گا اور بلاشبہ ادب کے ذریعے ہی سے یہ کام احسن طریقے سے انجام دیا جا سکتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ کشمیر ادب، زبان اور کلچر کو فروغ دیا جائے کشمیری ادب کا پاکستان کی تمام زبانوں میں تراجم کیے جائیں تاکہ ہمارے دل کی آواز ، ادب اور تراجم کے ذریعے پورے پاکستان میں گونجے ۔ ادب کے فروغ سے باہمی رنجشوں اور منافرت کا خاتمہ ہوگا اور ہم سب ایک ہی وحدت میں ملکی سلامتی اور امن اور بھائی چارے کی فضا قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور نفرت کو ہم ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں سے ختم کر سکتے ہیں کیونکہ ادب کا سماج پر اثر پڑتا ہے۔ اس سیشن میں حفیظ خان،ڈاکٹر ارشاد شاکر، ڈاکٹر منظور ویسریو، اعجاز نعمانی اور ڈاکٹر ظفر حسین ظفر نے موضوع کی مناسبت سے مقالات پیش کیے۔ بعدازاں جموں و کشمیر کلچرل اکیڈمی کے تعاون سے ایک رنگا رنگ ثقافتی شو منعقد ہوا ۔ کلچر ل شو کی نظامت حسن عبا س رضانے کی۔

Comments are closed