ہئیتِ حاکمہ(بورڈ آف گورنرز)

اکادمی ایک ہئیتِ حاکمہ کے تحت کام کرتی ہے۔پہلی ہئیتِ حاکمہ 1978 میں قائم کی گئی تھی، جس کے ارکان کو حکومت پاکستان وقتاً فوقتاً تبدیل کرتی رہتی تھی ۔اس ہئیتِ حاکمہ میں تمام صوبوں سے اہل قلم کے علاوہ وزارتِ تعلیم (اس وقت کی انتظامی وزارت ) ،وزارت خزانہ ،ہائر ایجوکیشن کمیشن اور آل پاکستان پبلشرز ایسوسی ایشن کے نمائندے رکن جب کہ اکادمی کے صدر نشین بلحاظ عہدہ ہئیتِ حاکمہ کےصدر نشین(چیئرمین) اور ناظم اعلیٰ(ڈائریکٹر جنرل) ، رکن/ سیکرٹری ہوتے تھے۔ اکادمی ایکٹ 2013 میں ہئیت حاکمہ کی تشکیل میں کچھ تبدیلی لائی گئی ہےاور اس کے ارکان کی تعداد بھی بڑھا دی گئی ہے ؛ اب  اکیس(21 )ارکان پر مشتمل اکادمی کی ہئیت حاکمہ میں اردو ، انگریزی، چھے دیگر پاکستانی زبانوں،پانچ صوبوںنیزوفاق اور فاٹا کے ایک ایک نمائندے کے علاوہ ، وزارتِ اطلاعات،نشریات و قومی ورثہ، وزارتِ خزانہ اورہائرایجوکیشن کمیشن کی طرف سے ایک ایک نمائندہ بطور رکن شامل ہوگا۔ اکادمی کے صدر نشین حسب سابق ہئیت حاکمہ کے بھی صدر ہوں گے جب کہ اکادمی کے ڈائریکٹر جنرل  بطور سیکرٹری اوررکن  کام کریں گے۔2015 میں تشکیل دی جانی والی ہئیت حاکمہ کی تفصیل درج ذیل ہے:

  1. پروفیسر ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو، چیئرمین اکادمی۔
  2. ڈاکٹر مبینہ طلعت( ایچ ای سی)
  3. ڈاکٹر اصغر ندیم سیّد،(پنجاب)
  4. جناب اَمر جلیل(سندھ)
  5. ڈاکٹر نذیر تبسم (خیبر پختونخواہ )
  6. ڈاکٹر عبد الرزاق صابر(بلوچستان)
  7. ڈاکٹر وحید احمد(اسلام آباد)
  8. پروفیسر اسلم خان تاثیر(فاٹا)
  9. مبین مرزا(اردو زبان)
  10. محمد حنیف (انگریزی زبان)
  11. ڈاکٹر صغریٰ صدف(پنجابی زبان)
  12. جناب غفار تبسم(سندھی زبان)
  13. ڈاکٹر نصرا للہ خان وزیر(پشتو زبان)
  14. جناب منیر احمد بادینی(بلوچی زبان)
  15. جناب حفیظ خان(سرائیکی زبان)
  16. جناب عارف ضیاء(براہوئی زبان)
  17. جناب اکبر حسین اکبر(کھوار،بلتی، شِنازبان)
  18. جوائنٹ سیکرٹری (وزارتِ اطلاعات ، نشریات و قومی ورثہ)
  19. جوائنٹ سیکرٹری(وزارتِ خزانہ)
  20. چیف سیکریٹری گلگت بلتستان
  21. ڈاکٹرراشدحمید،ناظم اعلی ٰاکادمی

Comments are closed