اہل قلم سے ملیے:پروفیسر انور مسعود

شگفتگی میں اگر شائستگی بھی شامل ہو تو تب مزاح پیدا ہوتا ہے۔ یہ بات ممتازمزاح نگار شاعر اور دانشور پروفیسر انور مسعود نے اکادمی ادبیات پاکستان کے رائٹرز کیفے کے زیر اہتمام تقریب ’’اہل قلم سے ملیے‘‘ (Meet a writer over a cup of tea) میں کہی۔اکادمی ادبیات پاکستان میں رائٹرز کیفے کے تحت نامورمزاح گوشاعر پروفیسر انور مسعود کے ساتھ تقریب منعقد ہوئی ۔ ادیبوں ، دانشوروں نے ان کی فنی زندگی اور شخصیت کے حوالے سے گفتگو کی ۔پروفیسرانور مسعود نے کہا کہ میری پیدائش 1940میں گجرات میں ہوئی ۔ میرے والد ایک صنعت کار تھے۔ گجرات سے ہم لاہور آئے تو ابتدائی تعلیم لاہور سے حاصل کی۔ بعد میں میرے والد کو کاروبار میں نقصان ہوا جس کی وجہ سے انہیں ایسا صدمہ ہوا کہ گویا مجذوب بن گئے اور گھر کی ساری ذمہ داری میرے کندھوں پر آن پڑی۔ یہ وقت میرے لیے انتہائی مشکل رہا۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال سے میری شروع سے دلچسپی رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر شگفتگی میں شائستگی شامل ہوتو یہ اصل مزاح ہوتا ہے۔ میرا اصل تعار ف تو میرا سنجیدہ شعر ہے جس کی احمد ندیم قاسمی نے بے حد حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے کہا کہ نظم اپنی زبان اور ہیت لے کر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونان میں ایرانی سفیر کو میں نے فارسی نظم سنائی تو وہ آب دیدہ ہوگئے ۔ انہوں نے اپنے زندگی کے حوالے سے انتہائی دلچسپ واقعات سنائے۔ انہوں نے کہا کہ تخلیق کے بارے میں کوئی بات یقینی طورپر کہی نہیں جاسکتی ِ ،مثلاً میں نے خواب میں شعر کہا تو مجھے صبح وہ شعر یا د تھا۔ انہوں نے کہا کہ میرے ابتدائی اساتذہ اور خاص کر پیر فضل گجراتی نے میری شعری تربیت کی۔ انہوں نے کہا کہ میری نانی صاحبہ بھی شاعرہ تھیں، اُن سے متاثر ہو کر میں نے شاعری شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ بحرین ایئر پورٹ پر ایک ننھی بچی نے میری نظم ’’بنیان‘‘ مجھے سنائی، اس طرح خانہ کعبہ کے طواف کے دوران ایک نوجوان مجھے ملاجس نے کہا کہ ابھی ا بھی میں نے آپ کے نام کا عمرہ کیا۔ یہ میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم۔اے میں مجھے گولڈ میڈل ملا ۔ حال ہی میں مجھے پرائڈ آف پنجاب ایوارڈ ملا۔ اسی طرح مسقط دبئی اور امریکہ میں بھی مجھے اعلیٰ اعزازات سے نوازا گیا۔ میں بنیادی طور پر عوامی سوچ کا آدمی ہوں مجھے عوام سے جو محبت ملی ہے اس کے لیے میں بے حد شکر گزار ہوں۔ ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو، چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان نے کہا کہ انور مسعود ہمارے ملک کے نامورمزاح گو شاعر، ادیب اور دانشور ہیں۔ فارسی کے استاد رہے ہیں ۔ وہ مزاح کے ساتھ ساتھ سنجیدہ شاعری بھی کرتے ہیں۔ اُن کی ایک الگ پہچان ہے اور صاحب اسلوب شاعر ہیں۔ آج ہمیں فخر ہے کہ وہ ہمارے مہمان ہیں ، وہ خود اپنا تعارف کرائیں گے اور اپنے مخفی گوشوں سے پردہ اٹھائیں گے جبکہ یہاں پر موجود معروف اہل قلم اُن سے سوال کریں گے۔ میں آپ تمام لوگوں کی تشریف آوری پر کا شکر گزار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ(Meet a writer over a cup of tea) پروگرام کے تحت یہ پندرھویں تقریب ہے۔ پروفیسر انور مسعود کی اہلیہ اور اُن کے صاحبزادے عمار مسعود نے کہا کہ اُن سے اٹوٹ اور مقدس رشتے کے علاوہ ہم یہ کہیں گے کہ وہ بہت اچھے انسان بھی ہیں۔ اس موقع پرکشور ناہید، حلیم قریشی، ڈاکٹر انعام الحق جاوید، افشاں عباسی، نورین طلعت عروبہ، پروفیسر فتح محمد ملک، پروفیسر احسان اکبر، مسعود مفتی اور دیگر شریک گفتگو ہوئے۔ ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو، چیئرمین اکادمی، نے تمام اہل قلم کی طرف سے پروفیسر انور مسعود کو پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔ کشور ناہید نے بھی پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔تقریب میںسعدی فراز، محمد حمید شاہد، رخسانہ سحر، فرحین چوہدری ، فرح دیبا اور
دیگر نے بھی شرکت کی۔

 

Comments are closed