وزیراعظم کے مشیر عرفان صدیقی کا دورہ

شاعر اور ادیب معاشرے کی روح اور زبان ہوتے ہیں۔ شعر و ادب سے دوری، انتہا پسندی اور عدم برداشت کے رویوں کو پروان چڑھاتی ہے۔ یہ بات وزیراعظم کے مشیر اور قومی تاریخ و ادبی ورثہ کے وفاقی وزیرعرفان صدیقی نے اکادمی ادبیات پاکستان کے دورہ کے موقع پر کہی۔ انہوں نے کہا کہ ادب ا نسانی قدروں کو فروغ دیتا ہے اور لوگوں کے درمیان امن، ہمدردی اور بھائی چارے کو پروان چڑھاتا ہے ۔ ادیب اور شاعر ہمارا قومی اثاثہ ہے اور حکومت اُن سے قریبی رابطہ رکھے گی۔ قلم کاروں کی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ نوجوان شاعر اور ادیبوں کی حوصلہ افزائی ضرور ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ خواتین قلم کاروں کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا جانا چاہئے۔ ہمارا علمی، ادبی اور شعری سرمایہ دنیا میں کسی سے کم نہیں۔ عصر حاضر کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارے شاعروں اور ادیبوں کے مختصر انتخاب تیار کئے جانے چاہئیں جو نوجوانوں کو شعر و ادب کی طرف راغب کر سکیں۔نئے لکھنے والوں کو سامنے لانا چاہیے ، ان کے لیے تربیتی ورکشاپس کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے شاعری اور افسانے وغیرہ کے مقابلوں کا اہتمام بھی ان میں لکھنے کی تحریک پیدا کر سکتی ہے ۔ عرفان صدیقی نے کہا کہ ہمیں انفارمیشن کی جدید ٹیکنالوجی سے بھی فائدہ اٹھانا چاہئیے کیونکہ آج کل کتابوں کا بہت سا ذخیرہ انٹرنیٹ پر موجود ہوتا ہے۔ اکادمی کو غور کرنا چاہیے کہ ہمارے شاعروں اور ادیبوں کی تخلیقات کو انٹرنیٹ کے ذریعے پھیلانے کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کی جائے۔ انہوں نے ادب کی ترقی اور فروغ کے حوالے سے اکادمی کے کاموں کو سراہااور چیئرمین اکادمی ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو اور اکادمی کے حوالے سے نئے منصوبوں کی تعریف کی۔ اس سے قبل وفاقی وزیر نے اکادمی ادبیات پاکستان کے دفاتر ، لائبریری اور رائٹرز ہائوس کا دورہ کیا۔ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو ، چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان نے اکادمی ادبیات پاکستان کے منصوبوں اور کارکردگی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اکادمی انٹر نیشنل کانفرنس کا انعقاد کر رہی ہیے جس کی تیاری کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ادبی سرگرمیوں سے جہالت ختم ہو سکتی ہے ۔ سماج میں اچھی روایات فروغ پاتی ہیں۔ رواداری قائم ہوتی ہے ۔ اکادمی ادبیات پاکستان انہی خطوط پر کام کرتے ہوئے اپنے آئندہ کے پروگرام ترتیب دے رہی ہے۔ اکادمی کے چیئرمین ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو نے عرفان صدیقی کو اکادمی کی مطبوعات کا سیٹ پیش کیا۔ اس موقع پر وزارتِ قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔

DSC_0544 (800x536)

Picture 1 of 5

Comments are closed