’’نئی نسل مشاعرہ‘‘

حکومت چاہتی ہے کہ ملک سے شدت پسندی منفی سوچ کا خاتمہ ہو اور اس کا خاتمہ کتاب اور ادب کو فروغ دے کر ہی ہو سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہارعبد الحکیم بلوچ، وزیر مملکت برائے مواصلات،نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام احمدفراز اور پروین شاکر کی یاد میںایک تقریب اورمشاعرہ میں کیا۔ وہ اس تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ عطاء الحق قاسمی اور سینیٹرشبلی فراز مہمانانِ اعزاز تھے۔ مشاعرے کے پریذیڈیم میںتوصیف تبسم، ثروت محی الدین اور جلیل عالی شامل تھے ۔ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو، چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان نے ابتدائیہ پیش کیا۔ محمد حمید شاہدنے نوجوان شعراء پر ، ڈاکٹر نجیبہ عارف نے پروین شاکر پر اوروفا چشتی نے احمد فراز کے حوالے سے مضامین پیش کیے۔ بعدازاں 40سال سے کم عمر شعراء پر مشتمل ’’نئی نسل مشاعرہ‘‘منعقد ہوا۔ نظامت محبوب ظفر نے کی۔

DSC_0641 (800x536)

Picture 1 of 22


عبد الحکیم بلوچ، وفاقی وزیر مملکت برائے مواصلا ت ، نے کہا کہ جن قوموں کی نظر اپنے مستقبل پر ہوتی ہے ،وہ اپنے مستقبل کے معماروں پر خصوصی توجہ دیتی ہیں۔ ہمارے مستقبل کے ادب کے معمار یہی لوگ ہیں۔ا س گلشن کے ہر پھول کی اپنی قدر قیمت ہوتی ہے ۔ ہر ایک کی اپنی خوشبو اور اپنا رنگ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حا لاں کہ قوموں کی سوچ کو تبدیل کرنے والے شاعر اور ادیب ہوتے ہیں ،اگر ہم نے ایک روشن خیال معاشرے کے قیام کو ممکن بنانا ہے توہمیں شاعروں کے بارے میں پھیلائی گئی ان غلط فہمیوں کو دور کرنا ہوگااور شاعروں کے امیج کو بہتر بنانا ہوگا۔ آج اگر ہمیں دہشت گردی کاسامنا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے شاعروں کی تعلیمات کو فراموش کر دیا ہے۔ اپنے مصوروں کے رنگوں کو بھلا دیا ہے ۔ اپنی موسیقی کی تانوں پر کان دھرنا چھوڑ دیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ادب، مصوری، موسیقی اور فنونِ لطیفہ کو فروغ دے کر ہی جیتی جا سکتی ہے۔ یہ فنون کسی قوم کی داخلی زندگی کے عکاس ہوتے ہیں۔ فکر میں تبدیلی انہی فنون کے ذریعے ہی لائی جا سکتی ہے۔ نفرتوں اور دہشت گردی کو ختم کرکے ہم پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں اور یہ کام جمہوریت کی طاقت اور آپ جیسے دانش وروں کے تعاون سے ہی ممکن ہوگا۔ ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو نے کہا کہ ادب کے فروغ اور ادیب کی فلاح سے معاشرے میں رواداری ، محبت اور اخوت کی فضا ہموار ہوتی ہے۔ اکادمی جہاں سینئر اور معتبر لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کررہی ہے وہیں نئے لکھنے والوں کی بھی حوصلہ افزائی اس کے آئندہ منصوبوں میں شامل ہے۔ نوجوان نسل شعرو ادب کیطرف راغب ہوکر قوم کو ایک نئی اور ترقی یافتہ سوچ دے سکتی ہے ۔ اس لیے ضروری کہ نئی نسل علم و ادب میں دلچسپی لے۔ نئی نسل کے مشاعرہ کا انعقاد اسی بات کی عکاسی ہے کہ نئی نسل اور اُن کی سوچ کو سامنے لایا جائے۔ محمد حمید شاہد نے نوجوان شعراء کے حوالے سے مضمون پڑھتے ہوئے کہا کہ نئی نسل اپنی شاعری کے حوالے نئے زمانے کو دیکھ رہی ہے۔ نئے شاعر، تہذیب، نظریات کے ذریعہ اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔ یہ نسل دبائو کا شکار ہے مگر اس سے بڑی ہمت سے نبردآزما ہے اور شاعری کا نیا چہرہ سامنے آرہا ہے۔ وفاچشتی نے احمد فراز پر مضمون پیش کرتے ہوئے کہا کہ احمد فراز کا شعر روایت کے ساتھ جدتِ فکر اور انقلابِ آفرین بھی ہے۔ وہ ہمیشہ حق اور سچ کے لیے آواز بلند کرتے رہے۔ ان کا جانا ادب کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ڈاکٹر نجیبہ عارف نے پروین شاکر کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پروین شاکرنہ صرف محبت کی شاعرہ تھیں بلکہ ان کی شاعری میں سماجی شعور بھی ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کو بڑے قریب سے دیکھا اور بیان کیا ہے۔

Comments are closed