کمال فن ایوارڈ2014ء اور قومی ادبی ایوارڈ2014ء کا اعلان

اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ممتاز اہل قلم کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ’’کمال فن ایوارڈ2014کے لئے نامور شاعرہ فہمیدہ ریاض کو منتخب کیا گیا ہے ۔اس کا اعلان ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو، چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان نے ایوارڈ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کیا ۔’’کمال فن ایوارڈ ‘‘ ملک کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہے ۔

Fahmida Riaz

جس کی رقم 500,000/-روپے ہے 2014کے ’’کمال فن ایوارڈ ‘‘کا فیصلہ پاکستان کے معتبر اور مستند اہل دانش پر مشتمل منصفین کے پینل نے کیا جس میں مسعود اشعر، ڈاکٹر شاہد اقبال کامران ،ڈاکٹر توصیف تبسم، احمد سلیم، ڈاکٹر شاہ محمد مری،مبین مرزا،ڈاکٹرسلمیٰ شاہین، مسرت کلانچوی، عارف ضیاء،ڈاکٹر اسحاق سمیجواور حسام حر شامل تھے ۔ اجلاس کی صدارت جناب مسعود اشعر نے کی ۔ ’’کمال فن ایوارڈ ‘‘ ہر سال کسی بھی ایک پاکستانی اہل قلم کوان کی زندگی بھر کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر دیا جاتا ہے۔یہ ایوارڈ ملک کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہے جس کا اجراء اکادمی ادبیات پاکستان نے 1997ء میں کیا تھا۔ اس ایوارڈ کے ساتھ پانچ لاکھ روپے کی رقم بھی پیش کی جاتی ہے ۔اب تک اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے احمد ندیم قاسمی ، انتظار حسین ،مشتاق احمد یوسفی،احمد فراز ،شوکت صدیقی، منیر نیازی ، ادا جعفری،سوبھو گیان چندانی ،ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ،جمیل الدین عالی، محمد اجمل خان خٹک ،عبداللہ جان جمالدینی،لطف اللہ خان ، بانو قدسیہ ، محمد ابراہیم جویو ،عبداللہ حسین اور افضل احسن رندھاواکو ’’کمال فن ایوارڈ ‘‘دیئے جا چکے ہیں ۔اس موقع پر’ ’قومی ادبی ایوارڈ‘‘ برائے سال 2014ء کا اعلان بھی کیاگیا۔ چئیرمین اکادمی ادبیات پاکستان ،ڈاکٹرمحمد قاسم بگھیو نے اپنی پریس کانفرنس میں بتایا کہ اردو نظم کے لئے ’’ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ایوارڈ‘‘ امداد حسینی کی کتاب ’’دھوپ کرن ‘‘کو دیا گیا ۔اردو نثر کے لئے ’’بابائے اردو مولوی عبدالحق ایوارڈ‘‘ طاہرہ اقبال کی کتاب ’’زمیں رنگ‘‘ اور ڈاکٹر شکیل پتافی کی کتاب ’’پاکستان میں غالب شناسی‘‘کو دیا گیا ۔ پنجابی زبان کے لئے سید وارث شاہ ایوارڈ زاہدحسن کی کتاب ’’قصۂ عاشقاں‘‘ کو دیا گیا ۔سندھی زبان کے لئے ’’شاہ عبدالطیف بھٹائی ایوارڈ ‘‘ تاج بلوچ کی کتاب’’جديد ادب جو تجزيو‘‘ کو دیا گیا، پشتو زبان کے لئے ’’خوشحال خان خٹک ایوارڈ‘‘ ڈاکٹر عبدالقدوس عاصم کی کتاب کو دیا گیا ۔بلوچی زبان کے لئے ’’مست توکلی ایوارڈ‘‘غفور شادکی کتاب’’بلوچی کلاسیکل شاعری ‘‘کو دیا گیا۔ سرائیکی زبان کے لئے ’’خواجہ غلام فرید ایوارڈ‘‘ حبیب موہانہ کی کتاب ’’سیتلاں دے داغ‘‘ کو دیا گیا ۔ براہوئی زبان کے لئے ’’تاج محمد تاجل ایوارڈ ‘‘ذوق براہوئی کی کتاب ’’مڑدا تاڈغارے جہلاوان‘‘ کو دیا گیا ۔ ہندکو زبان کے لئے ’’سائیں احمد علی ایوارڈ ‘‘حسام حر کی کتاب ’’قصہ خوانی کہنٹہ کہار‘‘کو دیا گیا ۔ ترجمے کے لئے ’’محمد حسن عسکری ایوارڈ‘‘ ڈاکٹر امجد علی بھٹی کی کتاب ’’پنجاب لوک ریت‘‘ کو دیا گیا۔

Comments are closed